Tuesday, 8 November 2016

صبح ازل سے شام ابد تک آنا جانا ہوتا ہے

صبحِ ازل سے شامِ ابد تک آنا جانا ہوتا ہے
منزل تک جانے کا رستہ کس نے پانا ہوتا ہے
میں اک عورت ہوں، گھر بھر کی ذمہ داری ہے میری
مردوں کو تو کام بڑے ہیں، چاند پہ جانا ہوتا ہے
میری باری میں ہی قسمت کیوں کرتی ہے من مانی
ہونے کو تو جو ہوتا ہے ایک بہانہ ہوتا ہے
لیلیٰ اور مجنوں کے قصے تیرے میرے قصے ہیں
ایک ہمیشہ مر جاتا ہے، ایک دیوانہ ہوتا ہے
آج ہمارے بچے ہم کو لوگ پرانے کہتے ہیں
ان کو کیا معلوم کہ ہر دستور پرانا ہوتا ہے

سیما نقوی

No comments:

Post a Comment