جھاڑی جو خاک یاد میں لپٹے کھنڈر مِلے
اور چند خستہ حال کتابوں میں پر ملے
جب بھی کیا سوال تو لوٹی ہوں نامراد
کہنے کو جو بھی لوگ ملے با اثر ملے
وحشت کدہ کا راستہ سنسان ہے بہت
منزل کو ڈھونڈنے میں ہی رستے بکھر گئے
کوئی اِدھر ملے ہے تو کوئی اُدھر ملے
بس چاہتی تھی ساتھ رہے بزمِ دوستاں
یہ کیا کہ دشمنوں سے ہیں دیوار و در ملے
کاجل سی رات آنکھ میں اترے تو غم نہیں
کل جو مجھے بھی چاند کے جیسی سحر ملے
یہ قوم بھی چڑھے گی بلندی کے بام پر
ہر فرد اک مقام پہ آ کر اگر ملے
سیما نقوی
No comments:
Post a Comment