سخت مشکل میں ڈال پھینکا ہے
اس نے زلفوں کا جال پھینکا ہے
ہر تمنا بے سُود نکلی ہے
دل سے سب کچھ نکال پھینکا ہے
لوگ فرہاد بنتے جاتے ہیں
ہم نے جب سے کُدال پھینکا ہے
شاخ سے اُڑ گئے سبھی پنچھی
وقت نے ایسا جال پھینکا ہے
مجھ کو جو لاجواب کر دے گا
اس کی جانب سوال پھینکا ہے
میری سانسیں یہ جو مہکتی ہیں
کس نے کر کے نڈھال پھینکا ہے
بات قسمت پہ آن ٹھہری ہے
ہم نے سِکہ اُچھال پھینکا ہے
قاعدے سے نبھائی ہے اس نے
مجھ کو کر کے حلال پھینکا ہے
صائم علی
No comments:
Post a Comment