عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یا رب خلوصِ شوق کو اتنی رسائی دے
دل کے حرم میں شہرِ مدینہ دکھائی دے
تنگ آ گئی ہے قیدِ عناصر سے زندگی
زنجیر صبح وشام سے مجھ کو رہائی دے
ہر بات میں ہوں نامِ محمدﷺ کی تابش
ہر سانس میں پیامِ محمدﷺ سنائی دے
مولائے کائنات کی چشمِ کرم تو ہے
جو بےکسوں کو طاقتِ خیبر کشائی دے
صرف ایک لمحہ روضۂ اقدس کو چوم لوں
صرف ایک لمحہ کی مِرے مولا خدائی دے
ہو دل کی سلطنت میں نہ سرکش کوئی اُمنگ
درویش کو بھی ہمت فرمانروائی دے
یا مجھ کو مرحمت ہو محبت حضور کی
یا میرے دل کو طاقتِ صبر آزمائی دے
اس کربلا میں صدقۂ شبیرؑ کے طفیل
میرے دلِ حزیں کو بھی کرب آشنائی دے
طفیل ہوشیار پوری
No comments:
Post a Comment