Friday, 8 October 2021

رہ الفت میں اک دن یہ گھڑی آئی تو کیا ہو گا

 رہِ الفت میں اک دن یہ گھڑی آئی تو کیا ہو گا

خرد نے عشق کی پوشاک پہنائی تو کیا ہو گا

یہ بحرِ عشق ہے گہرائی عاشق ہی سمجھتا ہے

بنو جو دور ساحل پہ تماشائی تو کیا ہو گا

جو چل نکلا ہے کب کا اک بگولے کے تعاقب میں

وہ پیاسا بن گیا صحرا کا شیدائی تو کیا ہو گا

برستی ہے ہمیشہ جس کے غم میں چشمِ تر میری

گھٹا بن کر وہ میرے ذہن پر چھائی تو کیا ہو گا

وہ جس کی عقل و دانش پر تحفظ ہے تمہیں لاحق

اسی نےبات آخر تم کو سمجھائی تو کیا ہو گا

میں اپنی کشتیٔ دل جس میں جا کر چھوڑ آیا ہوں

ڈبو دے جھیل سی آنکھوں کی گہرائی تو کیا ہو گا

وہ جس سے پیار کرنے پر ہوئے توحید کے قائل

وہی نکلا محبت میں جو ہرجائی تو کیا ہو گا

خبر پیارے وطن کی اس لئے میں سن نہیں پاتا

طبیعت دکھ کی یہ شدت نہ سہہ پائی تو کیا ہو گا

بہت مشکل سے میں نے ضبط کے دامن کو تھاما ہے

تِری یادوں نے گر چھینی شکیبائی تو کیا ہو گا

رہے گا مان پھر کیسا ہوا کی تندی تیزی کا

جو اک چھوٹا دیا تک نہ بجھا پائی تو کیا ہو گا

زبیدہ نے خریدی ہے جو جنت تم نے ٹھکرائی

بَعِوضِ سلطنت بھی کل نہ ہاتھ آئی تو کیا ہو گا

نکل بیٹھے ہو جس کو ڈھونڈنے صحرا و جنگل میں

تمہاری شہ رگ سے وہ صدا آئی تو کیا ہو گا

ہر اک دکھ کی دوا کرنے مسیحا آ تو جائے گا

نہ بھایا تم کو اندازِ مسیحائی تو کیا ہو گا


ایاز مفتی

No comments:

Post a Comment