مُلا برہمن نہ تھے، دیر و حرم نہ تھے
اے دل کب انکی راہ میں یہ پیچ و خم نہ تھے
شاید انہیں کبھی نہ کبھی یاد آ سکے
ان سے تعلقات ہمارے بھی کم نہ تھے
الزام کس لیے تجھے اے چشمِ دوست دیں
دل معترف ہے آپ کے الطافِ خاص کا
یہ اور بات ہے وہ برنگِ کرم نہ تھے
اب میں ہوں اور شکوۂ آلامِ روزگار
تیری فضا میں کوچۂ جاناں یہ غم نہ تھے
دل کے غنا نے رتبۂ شاہی عطا کیا
ہم کیقباد و خسرو و دارا و جَم نہ تھے
کوثرؔ یہ ٹھیک ہے کہ زمانہ بخیل ہے
پھر بھی جو غم ملے وہ توقع سے کم نہ تھے
کوثر نیازی
No comments:
Post a Comment