Friday, 13 November 2015

خیال ترک الفت ہم نشینو آ ہی جاتا ہے

خیالِ ترکِ الفت ہم نشینو آ ہی جاتا ہے
وفورِ یاس ہو تو آدمی گھبرا ہی جاتا ہے
ہمیشہ سطحِ دریا ایک حالت پر نہیں رہتی
سفینہ تنگ موجوں سے کبھی ٹکرا ہی جاتا ہے
تباہی کی گھڑی شاید زمانے پر نہیں آئی
ابھی اپنے کیے پر آدمی شرما ہی جاتا ہے
جسے آوارگی، بے گانۂ منزل بنا ڈالے
فریبِ رہنما اکثر وہ رہرو کھا ہی جاتا ہے
نگاہِ دوست کے آگے سیر کوئی نہیں ممکن
یہ تیرِ نیم کش قلب و جگر برما ہی جاتا ہے
نہیں نرمک خرامی کارواں کی بے سبب کوثرؔ
خموشی سے جو اٹھتا ہے وہ بادل چھا ہی جاتا ہے

کوثر نیازی

No comments:

Post a Comment