تہمتیں اٹھا لیں کیا
ہم شکست کھا لیں کیا
مان لیں زمانے کی
اور سر جھکا لیں کیا
کھاۓ ہیں بہت دھوکے
اس بہار چہرے پر
ہم بھی دکھ سجا لیں کیا
پگڑیوں کی خواہش میں
پگڑیاں اچھالیں کیا
دوسروں کے آنگن میں
راستہ بنا لیں کیا
حیلہ ساز رہزن کو
رہنما بنا لیں کیا
گھر جلا کے اوروں کے
اپنا گھر بچا لیں کیا
قتل کر کے بھائی کو
اس کا خوں بہا لیں کیا
ہم بھی رُت بدلتے ہی
توبہ توڑ ڈالیں کیا
سعید الظفر صدیقی
No comments:
Post a Comment