Thursday, 6 January 2022

تیرے گلزار کی خوشبو سے سجا رہتا ہے

 تیرے گلزار کی خوشبو سے سجا رہتا ہے

میرے دربار کا جو در ہے کھلا رہتا ہے

ہر قدم ساتھ رہا کرتی ہیں یادیں تیری

دھیان تیرا ہی در دل پہ دھرا رہتا ہے

وسوسے یوں تو ڈراتے ہیں اندھیروں سے مگر

میری راہوں میں بھی اک دیپ جلا رہتا ہے

پھر مخالف کو میں دلدار بناؤں کیسے

اب عنایات کا انداز جدا رہتا ہے

اک گھرانا جو ہے پہچان مِرے ہونے کی

ان روایات کا احساس سدا رہتا ہے


حنا امبرین طارق

No comments:

Post a Comment