تیرے گلزار کی خوشبو سے سجا رہتا ہے
میرے دربار کا جو در ہے کھلا رہتا ہے
ہر قدم ساتھ رہا کرتی ہیں یادیں تیری
دھیان تیرا ہی در دل پہ دھرا رہتا ہے
وسوسے یوں تو ڈراتے ہیں اندھیروں سے مگر
میری راہوں میں بھی اک دیپ جلا رہتا ہے
پھر مخالف کو میں دلدار بناؤں کیسے
اب عنایات کا انداز جدا رہتا ہے
اک گھرانا جو ہے پہچان مِرے ہونے کی
ان روایات کا احساس سدا رہتا ہے
حنا امبرین طارق
No comments:
Post a Comment