آخر تِری پکار پہ آنا پڑا ہمیں
رستے میں گرچہ سارا زمانہ پڑا ہمیں
جنت بدر ہوئے تو کبھی دربدر ہوئے
مہنگا قسم خدا کی یہ دانہ پڑا ہمیں
کچھ لوگ میٹھا جان کے کھانے کو پِل پڑے
تھوڑا سا زہر خود میں ملانا پڑا ہمیں
گو دشمنوں کی سمت روئے دوست تھا مگر
چُھوٹا جو تیر، سیدھا نشانہ پڑا ہمیں
بوسے کے وقت یار کی زُلفوں نے ڈس لیا
یوں زندگی کے مول، خزانہ پڑا ہمیں
رکھیے ہمارے ضبط کا کچھ تو بھرم حضور
مر جائیں گے جو حال سنانا پڑا ہمیں
نیکی یہی تو نامۂ اعمال میں تھی شاذ
دریا میں اپنا عشق بہانا پڑا ہمیں
شہزاد احمد شاذ
No comments:
Post a Comment