بکھرے ہوئے لمحات کہیں جمع تو ہو لیں
پھر ہم بھی کہیں شعر، لبِ سوختہ کھولیں
اک خواب ہے اور اتنا المناک و حزیں
جی چاہتا ہے آنکھ میں اک خار چبھو لیں
افلاس کی یہ برف پگھلنے کی نہیں ہے
جو چپ ہیں وہ ٹھٹھرتے ہوئے افراد بھی بولیں
اے جان کی جاں، یعنی ثنا! ہم تِرا پیکر
دِکھنے میں نہیں آئے تو ہاتھوں سے ٹٹولیں
گزری ہے مِرے جسم پہ اک ساعتِ ہجرت
اصغر مِرے پاس آ کہ ذرا بیٹھ کے رو لیں
احسان اصغر
No comments:
Post a Comment