Thursday, 22 April 2021

آج کی شام میرے ذہن میں بہت سے گمشدہ نام ابھرتے ہیں

 آج کی شام


آج کی شام

میرے ذہن میں بہت سے گمشدہ نام اُبھرتے ہیں

وہ نام جو میری زندگی میں آئے

مگر ڈُوبتے ستاروں کی طرح معدوم ہو گئے

آج کی شام

میرے ذہن میں بہت سُریلے گیت اُبھرتے ہیں

وہ گیت جو مِضراب سے پھُوٹتے ہیں

وہ مِضراب جنہیں میری اُنگلیاں

توڑ سکتی تھیں


زعیم مشتاق

No comments:

Post a Comment