آج کی شام
آج کی شام
میرے ذہن میں بہت سے گمشدہ نام اُبھرتے ہیں
وہ نام جو میری زندگی میں آئے
مگر ڈُوبتے ستاروں کی طرح معدوم ہو گئے
آج کی شام
میرے ذہن میں بہت سُریلے گیت اُبھرتے ہیں
وہ گیت جو مِضراب سے پھُوٹتے ہیں
وہ مِضراب جنہیں میری اُنگلیاں
توڑ سکتی تھیں
زعیم مشتاق
No comments:
Post a Comment