شہر میں آ ہی گئے ہیں تو گزارا کر لیں
اب بہر حال ہر اک شے کو گوارا کر لیں
ڈھونڈتے ہی رہے گھر میں کوئی کھڑکی نہ ملی
ہم نے چاہا جو کبھی ان کا نظارہ کر لیں
اپنی تنہائی کا احساس ادھورا ہے ابھی
آئینہ توڑ دیں، سائے سے کنارا کر لیں
اپنے جلتے ہوئے احساس میں تپتے تپتے
موم بن جائیں یا اپنے کو شرارہ کر لیں
زندگی تم سے عبارت ہے میری جاں لیکن
پھر بھی حسرت ہے یہی ذکر تمہارا کر لیں
شمیم عباس
No comments:
Post a Comment