آتے دنوں کے لیے ایک نظم
کہوں اک نظم جس میں پھول کھلتے ہوں
کہوں اک نظم
جس میں ان دنوں کی تابناکی کے ستارے جگمگاتے ہوں
جنہیں آنا ہے
اور لمحوں کی مُٹھی سے گزر کر وقت کو تسخیر کرنا ہے
کہوں اک نظم
جس میں روشنی ہو
وہ شعائیں جو تمہاری آنکھ کی پتلی سے نکلیں
وہ اجالیں آسمانوں اور زمینوں کو
ندامت کا سیاہ ملبوس پہنا دیں
ستاروں، کہکشاؤں کو
تمہاری آنکھ کی پتلی
مِری ظلمت میں ڈوبے پوربوں کا، پچھموں کا نور بن جائے
کہوں اک نظم
جو آواز کی افسردگی کو بانکپن بخشے
اور اس کی نرم لہروں کو تلاطم آشنا کر دے
کہوں اک نظم
جو تصویر ہو آتے دنوں کی
چمکتا ہو تمہارا شادماں چہرہ
جبیں میں نور، آنکھوں میں چمک، ہونٹوں پہ میٹھی مسکراہٹ
جلوہ آرا ہو
زاہد منیر عامر
No comments:
Post a Comment