Thursday, 22 April 2021

کہوں اک نظم جس میں پھول کھلتے ہوں

 آتے دنوں کے لیے ایک نظم


کہوں اک نظم جس میں پھول کھلتے ہوں

کہوں اک نظم

جس میں ان دنوں کی تابناکی کے ستارے جگمگاتے ہوں

جنہیں آنا ہے

اور لمحوں کی مُٹھی سے گزر کر وقت کو تسخیر کرنا ہے

کہوں اک نظم

جس میں روشنی ہو

وہ شعائیں جو تمہاری آنکھ کی پتلی سے نکلیں

وہ اجالیں آسمانوں اور زمینوں کو

ندامت کا سیاہ ملبوس پہنا دیں

ستاروں، کہکشاؤں کو

تمہاری آنکھ کی پتلی

مِری ظلمت میں ڈوبے پوربوں کا، پچھموں کا نور بن جائے

کہوں اک نظم

جو آواز کی افسردگی کو بانکپن بخشے

اور اس کی نرم لہروں کو تلاطم آشنا کر دے

کہوں اک نظم

جو تصویر ہو آتے دنوں کی

چمکتا ہو تمہارا شادماں چہرہ

جبیں میں نور، آنکھوں میں چمک، ہونٹوں پہ میٹھی مسکراہٹ

جلوہ آرا ہو


زاہد منیر عامر

No comments:

Post a Comment