یہ جو منظر ہے بآسانی بدل سکتا ہے
تیرا آنا مِری حیرانی بدل سکتا ہے
ہوتی آئی ہے صحائف میں یہاں تبدیلی
دیکھتے دیکھتے یہ پانی بدل سکتا ہے
میں پریشاں ہوں مگر تجھ سے زیادہ تو نہیں
مجھ سے تُو اپنی پریشانی بدل سکتا ہے
وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے جغرافیہ تو
کیا یہ اندازِ جہانبانی بدل سکتا ہے
قید خانے میں تخیل کے سہولت ہے بہت
اپنی زنجیر تو زِندانی بدل سکتا ہے
حسنِ تنہائی میں ملبوس کی ذلت سے پرے
کم سے کم جسم کی عریانی بدل سکتا ہے
رہ دکھاتے ہوئے بجھ سکتے ہیں انجم کسی روز
پھر یہی جادۂ امکانی بدل سکتا ہے
احسان اصغر
No comments:
Post a Comment