رہِ حیات پہ یوں بچ کے چل رہا ہوں میں
کہ کھائے ٹھوکریں کوئی سنبھل رہا ہوں میں
تفکرات کے ایندھن میں جل رہا ہوں میں
بہ شکلِ برف اسی سے پگھل رہا ہوں میں
برائے روشنی سورج بکھیر دے کرنیں
زمیں پہ تیری تمازت سے جل رہا ہوں میں
نہ زادِ راہ، نہ منزل کا ہے پتہ مجھ کو
سفر طویل ہے گھر سے نکل رہا ہوں میں
ہر ایک دور نے بڑھ کر مجھے سلام کیا
کھرا ہوں قیمتی سِکہ ہوں چل رہا ہوں میں
بلا سے منزلیں مجھ کو ملیں ملیں نہ ملیں
کسی کے نقشِ قدم پر تو چل رہا ہوں میں
دیا ہے درس جنہیں میں نے درد مندی کا
انہیں کی نظروں میں مقصود کھل رہا ہوں میں
مقصود احمد نشتری
No comments:
Post a Comment