کیسے کہہ دوں کہ جی اداس نہیں
ان سے ملنے کی کوئی آس نہیں
دل کہیں ہے کہیں ہے لخت جگر
آج کوئی بھی میرے پاس نہیں
لے گیا کون میرا صبر و قرار
اب ٹھکانے مِرے حواس نہیں
ڈُوبا رہتا ہوں چاہ میں تیری
پھر بھی بُجھتی نظر کی پیاس نہیں
کچھ مقدر کی ہے کمی عالم
پیار آتا مجھے جو راس نہیں
عالم بریلوی
مقصود عالم خاں
No comments:
Post a Comment