خفا ہیں مگر بات تو کیجیۓ
ملیں مت، ملاقات تو کیجیۓ
پلائیں نہ پانی، بٹھائیں بھی مت
مسافر سے کچھ بات تو کیجیۓ
سنی وعظ و تقریر، اچھی لگی
چلیں، کچھ مناجات تو کیجیۓ
نہیں دوستی کی فضا گر، نہ ہو
خدا را! شروعات تو کیجیۓ
بھلے، کل بگڑ کر کہیں الفراق
بسر آج کی رات تو کیجیۓ
کہا کیا، یہی ہے روایت مری
بیاں کچھ روایات تو کیجیۓ
عبث رب سے شکوہ کناں آپ ہیں
شمارِ عنایات تو کیجیۓ
اگر تزکیے سے ہے احمد فلاح
چلیں پھر شروعات تو کیجیۓ
محمد احمد
No comments:
Post a Comment