Wednesday, 4 August 2021

میرے تعاقب میں یادوں کی پچھل پیری تھی

 منظر سے پس منظر تک


کھڑکی پر مہتاب ٹکا تھا

رات سنہری تھی

اور دیوار پہ ساعت گنتی

سوئی سوئی گھڑی کی سُوئی

چلتے چلتے سمت گنوا کر غلطاں پیچاں تھی

میں بھی خود سے آنکھ چُرا کر

اپنے حال سے ہاتھ چُھڑا کر

برسوں کو فرسنگ بنا کر

جانے کتنی دُور چلا تھا

جانے کس کو ڈُھونڈ رہا تھا

دُھندلے دُھندلے چہرے کیسے رنگ رنگیلے تھے

پیلے پیلے پھول تھے، آنچل نیلے نیلے تھے

کیا چمکیلی آنکھیں، کیسے خواب سجیلے تھے

لیکن آنکھیں نم تھیں، منظر سِیلے سیلے تھے

اک چہرہ تھا روشن جیسے چاند گھٹاؤں میں

اک مُسکان تھی جیسے بکھریں رنگ فضاؤں میں

منظر منظر تکتا جاتا، چلتا جاتا میں

اِس منظر سے اُس منظر تک بڑھتا جاتا میں

اک تصویر کو رُک کر دیکھا، رُک نہیں پایا میں

اِس کھڑکی سے اُس آنگن تک جُھک نہیں پایا میں

جیسے اُس شب چلتے رہنا قسمت ٹھیری تھی

میرے تعاقب میں

یادوں کی پچھل پیری تھی


محمد احمد

No comments:

Post a Comment