جو بھی ہو گا وار، دیکھا جائے گا
غم نہ کر غمخوار، دیکھا جائے گا
کس طرح منوا لیا جائے تجھے
اے مِرے فنکار! دیکھا جائے گا
چل دئیے تو پھر کہیں رکنا نہیں
راستہ دشوار دیکھا جائے گا
ہجر کے صحرا کا ایسا ذکر کیا
اے شبِ بیدار دیکھا جائے گا
وقت کرتا ہے صبا کچھ فیصلے
وقت کو ہر بار دیکھا جائے گا
صبیحہ صبا
No comments:
Post a Comment