Wednesday, 14 April 2021

آؤ جینے کی باتیں کریں

 آؤ جینے کی باتیں کریں


آسماں کی طرح

نارسائی کی چادر

ہمارے سروں پر تنی ہے

(جس میں دُکھ کے ستارے ٹکے ہیں)

اس کی جانب سے نظریں چُرائیں

آج کی رات سب بھُول جائیں

آؤ جینے کی باتیں کریں

کون جانے کہ کیا ہے وفا

کس نے ڈھونڈے سے پایا خدا

ان جھمیلوں میں پڑنے سے کیا

آؤ جینے کی باتیں کریں


حارث خلیق

No comments:

Post a Comment