Wednesday, 14 April 2021

ضبط غم سے سوا ملال ہوا

 ضبط غم سے سوا ملال ہوا

اشک آئے تو جی بحال ہوا

پھر سے بُجھنے لگی ہے بینائی

پھر تِری دید کا سوال ہوا

اک ذرا چاند کے اُبھرنے سے

دیکھ سورج کا رنگ لال ہوا

کتنے لوگوں سے ملنا جلنا تھا

خود سے ملنا بھی اب محال ہوا

ہم نے ماضی کا ہر ورق پلٹا

ہم کو ہر بات پر ملال ہوا

ہم تو ٹک دیکھتے رہے اس کو

رائیگاں لمحۂ وصال ہوا

درد اشعار میں اتر آیا

لوگ کہنے لگے کمال ہوا


منیش شکلا

No comments:

Post a Comment