Wednesday, 14 April 2021

بادلوں میں ہی میری تو بارش مر گئی

 موت کی تلاشی مت لو


بادلوں میں ہی میری تو بارش مر گئی

ابھی ابھی بہت خوش لباس تھا وہ

میری خطا کر بیٹھا

کوئی جائے تو چلی جاؤں

کوئی آئے تو رُخصت ہو جاؤں

میرے ہاتھوں میں کوئی دل مر گیا ہے

موت کی تلاشی مت لو

انسان سے پہلے موت زندہ تھی

ٹوٹنے والے زمین پر رہ گئے

میں پیڑ سے گرا سایہ ہوں

آواز سے پہلے گھٹ نہیں سکتی

میری آنکھوں میں کوئی دل مر گیا ہے


سارا شگفتہ

سارہ شگفتہ

No comments:

Post a Comment