اک سایہ دوسرے کے مقابل نہیں رہا
یا درد اب رہا نہیں، یا دل نہیں رہا
جینا پڑا ہے تجھ سے بچھڑ کے بھی جب ہمیں
اب مرحلہ بھی موت کا مشکل نہیں رہا
پھرتے ہیں کب سے سر کو ہتھیلی پہ رکھ کے ہم
کیا شہر بھر میں اب کوئی قاتل نہیں رہا
پھر کیوں ہے درمیان میں یک صحرا فاصلہ
جب کوئی جسم و روح میں حائل نہیں رہا
کس کس عذاب سے نہ گزرنا پڑا اسے
وہ جو تِرے خیال سے غافل نہیں رہا
روئیں گے یاد کر کے مجھے کل یہ اہلِ بزم
اک بادہ خوار رونقِ محفل نہیں رہا
کہنی پڑی زمینِ اسد میں غزل اریب
گو میں فلک پہ کہنے کا قائل نہیں رہا
سلیمان اریب
No comments:
Post a Comment