Tuesday, 13 April 2021

یہ ساری دنیا سوالیہ ہے

 سوال


یہ ساری دنیا سوالیہ ہے

ہر ایک چہرہ سوال اندر سوال ہے اور

ہر ایک منظر سوال بن کر

جواب کا منتظر کھڑا ہے

اگر کوئی سامنے بھی آئے

اور آ کے اک بات کا بھی ہم کو

جواب دے دے

تو در حقیقت جواب میں بھی

نہ جانے کتنے سوال ہوں گے

ہزار ہا نت نئے مسائل ہمیں ملیں گے

کہ آج تک تو یہی ہوا ہے

جواب ہی سے سوال نکلے

جواب ہی میں سوال ڈھونڈے

یہ ساری دنیا سوالیہ ہے

خود آدمی اک سوال ہے اور

اسی نے پیہم سوال اٹھا کے

سوال کرنے کی رِیت ڈالی

سوال اول بھی آدمی ہے

سوال آخر بھی آدمی ہے

جواب مطلق بھی آدمی ہے

اگر یقیں ہو

تو آدمی پر کمند ڈالیں

سوال ہی میں جواب ڈھونڈیں


حارث خلیق

No comments:

Post a Comment