Tuesday, 13 April 2021

میرے ہمراہ محبت کا حوالا گیا تھا

 میرے ہمراہ محبت کا حوالا گیا تھا

میں تِرے شہر سے جس روز نکالا گیا تھا

کِن ہواؤں میں مِری روشنی بکھری ہوئی ہے

کِن خلاوں میں مِرا چاند اچھالا گیا تھا

اٹھ نہ جاتا تو یہی لوگ پرستش کرتے

میں ہی وہ بُت ہوں جو کعبے سے نکالا گیا تھا

میں نے ہی پیاس بجھائی ہے بیابانوں کی

دشت میں ساتھ مِرے پاؤں کا چھالا گیا تھا

گو بلندی کوئی معیار نہیں ہے، لیکن

آسمانوں پہ تِرا چاہنے والا گیا تھا


ندیم قیس

No comments:

Post a Comment