Wednesday, 8 December 2021

گر ٹوٹ گئے تو ہار گئے

 گر ٹوٹ گئے تو ہار گئے


جب میرے وطن کی گلیوں میں

ظلمت نے پنکھ پسارے تھے

اور رات کے کالے بادل نے

ہر شہر میں ڈیرا ڈالا تھا

جب بستی بستی دہک اٹھی

یوں لگتا تھا سب راکھ ہوا

یوں لگتا تھا محشر ہے بپا

اور رات کے ظالم سائے سے

بچنے کا کوئی یارا بھی نہ تھا

صدیوں میں تراشا تھا جس کو

انسان کے انتھک ہاتھوں نے

تہذیب کے اس گہوارے میں

ہر پھول دہکتا شعلہ تھا

جب نام خود ایندھن کی طرح

بھٹی میں جلایا جانے لگا

اور نیک خدا کے سب بندے

مردود حرم ٹھہرائے گئے

جب خون کی ہولی رسم بنی

اور مقتل گاہیں عام ہوئیں

بربریت وحشت فن ٹھہری

اس فن کی بزمیں عام ہوئیں

جب شوہر بیٹے بھائی پدر

سب نام خدا کے کام آئے

آواز تھی اک انسان کی بھی

اس شور کے بیہڑ جنگل میں

جو مٹنے کو تیار نہ تھی

جو ذہنوں کو گرماتی رہی

جو چھلنی جسم سے کہتی رہی

اٹھ ہاتھ بڑھا ہاتھوں کو پکڑ

لاکھوں ہیں یہاں تیرے جیسے

اس جنگ کو جاری رکھنا ہے

گر ٹوٹ گئے تو ہار گئے


گوہر رضا

No comments:

Post a Comment