چشم کو مے کدہ، عارض کو کنول کیا لکھیں
شہر میں خون جو برسے تو غزل کیا لکھیں
یہ تو ہر روز کا قصہ ہے مِرے ہم سخنو
سوچنا کیا ہے کہ اس فصل میں کل کیا لکھیں
قتل گاہوں سے مِرے جسم کی بُو آتی ہے
راکھ کے ڈھیر پہ رودادِ اجل کیا لکھیں
ایک زنجیر سی ہر شام نظر آتی ہے
ایسی وحشت میں تِری زلف کا بَل کیا لکھیں
جس میں قانون بھی ہر گام بدل جاتا ہو
اس خرابے میں کوئی بات اٹل کیا لکھیں
ہم نے جو بویا وہی کاٹ رہے ہیں لوگو
ہم ہی قاتل ہیں تو اس درد کا حل کیا لکھیں
ہلال نقوی
No comments:
Post a Comment