گزشتہ زمانے کی ایک یاد
اُس پُر خروش نہر کے کنارے ایک شہر ہے
جس کے نخل درہم و آشفتہ اور جس کی شبیں پُرنور ہیں
اُس نہر کے کنارے ایک شہر ہے اور میرا دل
وہاں ایک پُر غرور مرد کے پنجے کا اسیر ہے
اُس نہر کے کنارے ایک شہر ہے کہ جس نے سالوں
میرے اور اُس کے جانب اپنی آغوش کھولی ہے
ساحل کی ریت پر اور نخل کے سایوں میں اُس نے
میری چشم و لب سے بوسے چُرائے ہیں
وہ چاند دیکھ چکا ہے کہ میں نے اپنی محبت کے جادو سے
اُس کے قلبِ سنگیں (پتھر دل) کو نرم کر دیا تھا
وہ چاند دیکھ چکا ہے کہ اُس کی
اُن دو وحشی و مثلِ بیگانہ چشموں میں اشکِ شوق لرزا تھا
ہم مہتابی نیم شبوں میں کشتی کے ساتھ
بے کراں موجوں کے سینے پر چلے تھے
نیم شب کے سکوتِ پریشاں میں
ہماری بزم پر ستاروں کی سفید نگاہیں کھلی تھیں
وہ میرے دامن پر کسی بچے کی مانند سویا تھا
اور میں نے محبت سے دو سوئی ہوئی آنکھوں کو بوسہ دیا تھا
میرا دامن موج کے دہن میں چلا گیا تھا، اور اُس نے
پانی میں جا چُکے دامن کو باہر کھینچا تھا
اب میں ہوں کہ اس خلوت و سکوت کے اندر
اے شہرِ پُرخروش! تم کو یاد کرتی ہوں
میں اُس سے دل بستہ ہوں، تم اُس کو عزیز رکھو
میں اُس کے خیال کے ساتھ اپنے دل کو شاد کرتی ہوں
فروغ فرخ زاد
فارسی شاعری سے اردو ترجمہ
No comments:
Post a Comment