بیچ دو
شعلہ رُخوں کی گرمئ رفتار بیچ دو
پازیب و ساق بیچ دو جھنکار بیچ دو
زہرہ وشوں کی شوخئ گُفتار بیچ دو
غُنچہ لبوں کا نُطقِ شرر بار بیچ دو
چشمِ غزال و ابروئے خمدار بیچ دو
زُلفِ دراز و خال رُخِ یار بیچ دو
سوزِ نگاہِ نرگسِ بیمار بیچ دو
یعنی متاعِ دیدۂ بیدار بیچ دو
کوئل کی کُوک، پی کی صدا کمسِنوں کا پیار
کلیوں کا حُسن و شاخِ ثمر دار بیچ دو
پھولوں سے گال، قامتِ موزوں، کمر کا لوچ
اہلِ ہوس کو کیا نہیں درکار بیچ دو
بہنوں کی، بیٹیوں کی حیا، مامتا کی لاج
ان کے بھی سینکڑوں ہیں خریدار بیچ دو
جن خلوتوں میں عشق اٹھائے حجابِ حُسن
ان خلوتوں کو بر سرِ بازار بیچ دو
اے تاجرانِ سنبل و صفصاف و نسترن
گل کیا ہیں، بیچتے ہو تو گلزار بیچ دو
تم تو ازل سے بردہ فروشی میں طاق ہو
بچنے نہ پائے کوئی طرحدار، بیچ دو
اے رہبران و راہ نمایان کور چشم
ہم اہلِ دل کی حُرمتِ افکار بیچ دو
اے حاکمانِ وقت تمہیں ٹوکتا ہے کون
ہم سرکشوں کی جرأتِ اظہار بیچ دو
جی بھر کے تم ذلیل کرو اہلِ ہوش کو
اربابِ علم و فضل کی دستار بیچ دو
تسبیحِ شیخ و جامۂ احرام ہی پہ کیا
ہر برہمن کا حلقۂ زنّار بیچ دو
پہناؤ زندگی کو لباسِ برہنگی
انسانیت کا جامۂ زرتار بیچ دو
ہر تیرگی کو جشنِ چراغاں کا دو خطاب
اور شب کے ہاتھ صبح کے انوار بیچ دو
گھر بیچنے پہ تُل ہی چکے ہو جو تم تو پھر
کیا سقف و بام، کیا در و دیوار، بیچ دو
اب جبکہ یہ مکاں ہی برائے فروخت ہے
قسطوں میں بیچ دو کہ بہ یکبار بیچ دو
اہلِ وطن کے علم میں آئے نہ کوئی بات
غیروں کے ہاتھ ملک کے اسرار بیچ دو
اپنے گِلہ کریں تو سَروں کو کرو قلم
دُشمن کا سامنا ہو تو تلوار بیچ دو
بازار ہی کی جنس جو ٹھہرا ضمیرِ قوم
عزت وطن کی، قوم کا کردار بیچ دو
دُنیا کے ساتھ دِین بھی اب ہے فروختنی
ہیں جمع بھانت بھانت کے نجکار بیچ دو
کب تک مگر یہ صورتِ حالات دوستو
کب تک یہ دن، یہ غم کی سیہ رات دوستو
خالد علیگ
No comments:
Post a Comment