Friday, 11 March 2022

سنا ہے رات کے پردے میں صبح سوتی ہے

 صبح


سنا ہے رات کے پردے میں صبح سوتی ہے

سویرا اٹھ کے دبے پاؤں آئے گا ہم تک

ہمارے پاؤں پہ رکھے گا بھیگے بھیگے پھول

کہے گا؛ اٹھو کہ اب تیرگی کا دور گیا

بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں کرنے ہیں

انہیں سمیٹ کے راہیں نئی تلاش کرو

نہیں یقین کرو

یوں کبھی نہیں ہوتا

سویرا اٹھ کے دبے پاؤں

خود نہ آئے گا

نہ ہو جو شمع

تو ہرگز سحر نہیں ہوتی

اگر شعاعوں کے بھالے نہ ہوں

ہمارا نصیب

تو نہریں دودھ کی خوابوں میں بہتی رہتی ہیں

زمین گھوم کے سورج کو چومتی ہے ضرور

شعاعیں پھٹتی ہیں

لیکن سحر نہیں ہوتی


گوہر رضا

No comments:

Post a Comment