Friday, 11 March 2022

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں

 ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں

کہ اعتبار کے قابل تو زندگی بھی نہیں

کروں میں خونِ تمنا کا کس لیے ماتم

مِرے لیے یہ مصیبت کوئی نئی بھی نہیں

میں پھر بھی شام و سحر بے قرار رہتا ہوں

اگرچہ گھر میں کسی چیز کی کمی بھی نہیں

مجھے خبر ہے کہ انجام وصل کیا ہو گا

اسی لیے تِرے ملنے کی کچھ خوشی بھی نہیں

وہی ہے سب کی نگاہوں کی طنز کا مرکز

وہ جس مکان کی کھڑکی کبھی کھلی بھی نہیں

ہوئے وہ لوگ ہی شب کے سفر پہ آمادہ

وہ جن کے پاس اسد کوئی روشنی بھی نہیں


اسد جعفری

No comments:

Post a Comment