اچھا کہتے ہیں کہاں تجھ کو زمانے والے
ہم نہیں، عشق! تِرے حال میں آنے والے
کتنے لوگوں نے مجھے بھیجی ہے تصویر مِری
دیکھ آئینے مِرا عکس مٹانے والے
مل تو جائیں گے مگر کم ہی ملیں گے ایسے
عمر کے ساتھ یہاں پیار بڑھانے والے
آئے دن کون کرے رسمی ملاقات یہاں
بیٹھنے والے ہی مخلص نہ بٹھانے والے
بعض اوقات سفر ایک ہی کرتے ہیں مگر
ہمسفر صدیوں بنے رہتے ہیں جانے والے
شازیہ اکبر
No comments:
Post a Comment