جانے کس خواب کی شبنم میں بھگوئے ہوئے ہم
اور پھر کیسی زمینوں میں ہیں بوئے ہوئے ہم
راکھ کا رنگ مگر راس بہت آیا ہے
کتنے رنگوں کی بلونی میں بلوئے ہوئے ہم
زندگی تجھ سے کوئی بات کبھی طے نہ ہوئی
زندگی تیری ہر اک بات پہ روئے ہوئے ہم
جس سے جتنا بھی تعلق ہے وہ تکلیف کا ہے
اپنی آنکھوں میں کئی خار پروئے ہوئے ہم
ٹوٹ جانے پہ نکل آئے گِرہ کا رشتہ
ایک جیسے ہی کسی دکھ میں پروئے ہوئے ہم
صبح کو پہنیں وہی گرد کا چہرہ قیوم
رات ساون سی کسی یاد کے دھوئے ہوئے ہم
قیوم طاہر
No comments:
Post a Comment