Saturday, 19 June 2021

جانے کس خواب کی شبنم میں بھگوئے ہوئے ہم

 جانے کس خواب کی شبنم میں بھگوئے ہوئے ہم

اور پھر کیسی زمینوں میں ہیں بوئے ہوئے ہم

راکھ کا رنگ مگر راس بہت آیا ہے

کتنے رنگوں کی بلونی میں بلوئے ہوئے ہم

زندگی تجھ سے کوئی بات کبھی طے نہ ہوئی

زندگی تیری ہر اک بات پہ روئے ہوئے ہم

جس سے جتنا بھی تعلق ہے وہ تکلیف کا ہے

اپنی آنکھوں میں کئی خار پروئے ہوئے ہم

ٹوٹ جانے پہ نکل آئے گِرہ کا رشتہ

ایک جیسے ہی کسی دکھ میں پروئے ہوئے ہم

صبح کو پہنیں وہی گرد کا چہرہ قیوم

رات ساون سی کسی یاد کے دھوئے ہوئے ہم


قیوم طاہر

No comments:

Post a Comment