Saturday, 19 June 2021

لوگ لغزش تو خود ہی کریں گے

 لوگ لغزش تو خود ہی کریں گے

پھر بھی الزام قسمت کو دیں گے

آپ کس کس کی پرواہ کریں گے

لوگ تو بولتے ہی رہیں گے

زندگی! تُو یہاں سے چلی جا

یاں تجھے لوگ جینے نہ دیں گے

لاکھ سمجھے بُرا ہم کو دنیا

ہم بھلے ہیں، بھلا ہی کریں گے

تھک گئے ہیں مناتے مناتے

دیکھیے اب تو ہم رو پڑیں گے

سوچتی ہوں کہ رستہ کٹھن ہے

وہ مِرے ساتھ کب تک چلیں گے

زندگی! اب تو ہم جا رہے ہیں

تجھ سے فرصت میں آ کر ملیں گے

ہم منا لیں گے اپنے خدا کو

رات دن اس کو سجدے کریں گے

دیکھنا یہ غزل سن کے انمول

تیرے ناقد بھی عش عش کریں گے​


عائشہ انمول

No comments:

Post a Comment