لوگ لغزش تو خود ہی کریں گے
پھر بھی الزام قسمت کو دیں گے
آپ کس کس کی پرواہ کریں گے
لوگ تو بولتے ہی رہیں گے
زندگی! تُو یہاں سے چلی جا
یاں تجھے لوگ جینے نہ دیں گے
لاکھ سمجھے بُرا ہم کو دنیا
ہم بھلے ہیں، بھلا ہی کریں گے
تھک گئے ہیں مناتے مناتے
دیکھیے اب تو ہم رو پڑیں گے
سوچتی ہوں کہ رستہ کٹھن ہے
وہ مِرے ساتھ کب تک چلیں گے
زندگی! اب تو ہم جا رہے ہیں
تجھ سے فرصت میں آ کر ملیں گے
ہم منا لیں گے اپنے خدا کو
رات دن اس کو سجدے کریں گے
دیکھنا یہ غزل سن کے انمول
تیرے ناقد بھی عش عش کریں گے
عائشہ انمول
No comments:
Post a Comment