Monday, 20 September 2021

ہم کہاں سے آئے ہیں اور کدھر کو جانا ہے

 بے نام مسافت


ہم کہاں سے آئے ہیں 

اور کدھر کو جانا ہے

راستہ نہیں معلوم

کچھ خبر نہ منزل کی

مضطرب ہے دل اپنا

روح بے سہارا ہے

رت جگے ہیں آنکھوں میں

اور لبوں پہ نغمے ہیں

کوئی یہ نہ سمجھے گا

کوئی یہ نہ جانے گا

ہم کو کون پہچانے

ہم کہ ایک مدت سے

بے کنار صحرا میں

غم نشیں ہوئے آ کر

خوشبوئیں ہیں یا محفل

راستے ہیں یا منزل

کچھ تو آخر اپنا ہے

یا تمام سپنا ہے


شازیہ اکبر

No comments:

Post a Comment