نئے رتوں کے سفر کی راہیں بنانے والا کوئی نہیں ہے
ہمارے گھر کے بالائی حصے کے
کمرے میں ہاں
شمالی جانب جو کھڑکی ہے نا
اسی سے اکثر ہوائیں اپنا
حصار باندھے، خمار باندھے
یہاں پہ آ کر
ہمارے خوابوں میں رنگ بھرنے
ہمارے خوابوں کو سچا کرنے کو آ رہی ہیں
یہ بابا جانی ہیں؛ کہہ رہے ہیں
شمالی جانب سے آنے والی ہوائیں
اپنی نئے رُتوں کے سفر کی راہیں بنا رہی ہیں
میں سوچتا ہوں
نئے رُتوں کی سفر کی راہیں
خیال ہیں بس
میں بابا جانی کی باتوں سے متفق ہوں لیکن
وہی ہے کمرہ وہی ہے کھڑکی
شمالی جانب جو کھل رہی ہے
مگر ہوائیں تو گمشدہ ہیں
ہمارے خوابوں میں رنگ بھرتا کوئی نہیں ہے
نئے رُتوں کے سفر کی راہیں
بنانے والا کوئی نہیں ہے
زاہد خان
No comments:
Post a Comment