کیا کہوں میں تماش بینوں کو
لگ گئی آگ سب سفینوں کو
شوقِ صحرا نوردی لے ڈوبا
ہم بڑے شہر کے مکینوں کو
ہم مکاں تک نہیں بنا پائے
بیچ کر آ گئے زمینوں کو
بات سنتے نہیں تحمل سے
تم چڑھاتے ہو آستینوں کو
دشت میں آ گئے ہیں ہم تسکین
ڈھونڈتے ڈھونڈتے خزینوں کو
اسد تسکین
No comments:
Post a Comment