دیکھ لو یہی سچ ہے
حیات کے سانچے میں پھونکی گئی میری سانسیں رائیگاں نہیں گئیں
اس سے پہلے ابہام و شبہات تھے
مجھے تمہاری شکل میں تحفہ عطا ہوا
دمِ آخر تلک، زندگی کی تشکیل میں
اور سانسوں کی تکمیل تک
عکسِ من
تم مجھے خود کے گرد محبت میں مبتلا پاؤ گے
حرا شاہد
No comments:
Post a Comment