کچھ بچھڑنے کے قاعدے ہوتے
دور رہ کر بھی رابطے ہوتے
عشق بھی دیکھ کر کیا جاتا
یعنی اس میں بھی فاٸدے ہوتے
میں تِرا ہاتھ تھام کر چلتا
اور گمنام راستے ہوتے
نفرتوں کو جگہ نہیں ملتی
بس محبت کے سلسلے ہوتے
ہم سے دنیا فریب کھا جاتی
اپنی روحوں کے واسطے ہوتے
اسد تسکین
No comments:
Post a Comment