Saturday, 11 December 2021

میرے عجیب خواب ہیں

 میرے عجیب خواب ہیں


سوموار کو مر جاؤں

کوئی چُھٹی نہ کر سکے

جنازہ کم ہو

میرے عجیب خواب ہیں


چھ تک گنتی گِنوں اور

سات کی جگہ تمہارا نام لوں

میرے عجیب خواب ہیں


خدا کے نام پہ چندہ مانگوں، اور

مسجد سے اونچا گھر بناؤں

میرے عجیب خواب ہیں


چُپ رہ کے وحشت میں ایسی چیخیں ماروں

کہ “دائیں بائیں” والوں کے کان پھٹ جائیں

میرے عجیب خواب ہیں


ساتھ منٹ تک سانس روک کے رکھوں

پھر اچانک سانس لے کر

فرشتے کو “بے بسی” کا مطلب سمجھاؤں

میرے عجیب خواب ہیں


بروزِ محشر مجھے

سکول کے رول نمبر سے پُکارا جائے

میرے عجیب خواب ہیں


دوزخ کی دیوار پہ بیٹھ کے نُصرت سنوں

بہشتیوں کو ترستے ہوئے دیکھوں

میرے عجیب خواب ہیں


سہیل کاہلوں

No comments:

Post a Comment