Saturday, 11 December 2021

مرد ہوں ایسے ستمگر نہیں اچھے لگتے

 مرد ہوں ایسے ستمگر نہیں اچھے لگتے

آئینے توڑتے پتھر نہیں اچھے لگتے

چاہنے والے بچھڑ جائیں تو دکھ ہوتا ہے

بے وفائی کے بھی منظر نہیں اچھے لگتے

روشنی! کر مِری تاریک شبوں کو روشن

مجھ کو تاریک سمندر نہیں اچھے لگتے

مجھ کو ان کھوکھلے دعووں سے چبھن ہوتی ہے

پھول کے بھیس میں پتھر نہیں اچھے لگتے

بات امرینہ سے کرنا ہو تو کھل کر کرنا

یہ حجابوں میں چھپے ڈر نہیں اچھے لگتے


امرینہ قیصر

No comments:

Post a Comment