مرد ہوں ایسے ستمگر نہیں اچھے لگتے
آئینے توڑتے پتھر نہیں اچھے لگتے
چاہنے والے بچھڑ جائیں تو دکھ ہوتا ہے
بے وفائی کے بھی منظر نہیں اچھے لگتے
روشنی! کر مِری تاریک شبوں کو روشن
مجھ کو تاریک سمندر نہیں اچھے لگتے
مجھ کو ان کھوکھلے دعووں سے چبھن ہوتی ہے
پھول کے بھیس میں پتھر نہیں اچھے لگتے
بات امرینہ سے کرنا ہو تو کھل کر کرنا
یہ حجابوں میں چھپے ڈر نہیں اچھے لگتے
امرینہ قیصر
No comments:
Post a Comment