خیال آبرو
اب کیا خیالِ آبرو
بھیڑ میں آن بیٹھیۓ
اب کیا سوالِ دید اور کیسا حجاب
بس جناب
جاتی ہوا سے کس لیے سر کی ردا بچائیے
دیکھیۓ مسکرائی ہے
ایک نگاہِ اشتیاق
ہوش میں آئیے حضور
آپ بھی مسکرائیے
دیکھ کے یاں برہنہ سر
کون ہے جو ملول ہو
حیف ہے اب بھی شعر کی
داد نہ گر وصول ہو
چھوڑ بھی دیجیۓ عبیر
کاہے کی پردہ داریاں
شہر سے اٹھ گئیں حضور
پہلی سی وضع داریاں
آپ بھی تو بدل گئیں
جی، معذرت قبول ہو
کوئی نہ ساتھ روئے گا
کیوں سرِ عام روئیے
شعر کی آبرو گئی
کیوں نہ مدام روئیے
اچھی لگی تماش گاہ
دیکھیۓ حظ اٹھائیے
روئیے
روئے جائیے
اب کیا خیال آبرو
بھیڑ میں آن بیٹھیۓ
عبیرہ احمد
No comments:
Post a Comment