جانے کیا پا لیا اشارا جی
تھا ہمارا، ہُوا تمہارا جی
لا اُبالی پہ کتنا نازاں تھا
اک تِری دِید پر جو ہارا جی
مجھ کو بس تم ہی تم نظر آئے
آئینہ جب بھی ہے نہارا جی
یادیں فُرقت میں میٹھی میٹھی سی
ذائقہ آنسوؤں کا کھارا جی
عشق سُود و زیاں سے بالا تر
کس لیے پھر یہ استخارا جی
دلِ مُضطر کو تب قرار آئے
ساتھ جب ہو تمہیں گوارا جی
تب عدو پر بھی پیار آتا ہے
جب کرے ذکر وہ تمہارا جی
لب نہ کھولیں، چلیں اشارا ہی
کچھ تو جینے کا ہو سہارا جی
کیا اسے زندگی کہیں داور
کر رہے ہیں فقط گزارا جی
داور نوید
No comments:
Post a Comment