Saturday, 11 December 2021

تدبیر سکون دل ناکام نہیں ہے

 تدبیرِ سکونِ دلِ ناکام نہیں ہے

تیروں کی زبانی کوئی پیغام نہیں ہے

اب کوئی علاجِ دلِ ناکام نہیں ہے

آرام کا کیا ذکر، کہ آرام نہیں ہے

سہما ہوا دل دیتا ہے یہ کہہ کے ٹہوکے 

ہو جس کی سحر خیر سے، وہ شام نہیں ہے

شوریدہ سری پوچھ نہ تدبیرِ رہائی

اب کام یہ تیرا ہے، مِرا کام نہیں ہے

اِس سے مجھے کیا بحث کہ دنیا میں ہے کیا کیا

تُو ہو، تو زمانے سے کوئی کام نہیں ہے

کھویا ہوا رہتا ہوں محبت میں کسی کی

میرے لیے، کوئی سحر و شام نہیں ہے

عادت بھی ہے کیا چیز، بُری ہو کہ بھلی ہو

اب درد جو کم ہے، مجھے آرام نہیں ہے

ہے قبر میں اب پُرسشِ اعمال کا دھڑکا

آرام کی منزل میں بھی، آرام نہیں ہے

آئی ہوئی ٹل جائے، یہ دشوار ہے حامد

گنجائشِ عذرِ سحر و شام، نہیں ہے


مرزا حامد لکھنوی

No comments:

Post a Comment