Wednesday, 15 September 2021

زندگی بھر خزاؤں میں رہنا

 زندگی بھر خزاؤں میں رہنا

کس لیے بے وفاؤں میں رہنا

جا رہا ہوں تِرے نگر سے، مجھے

اب نہیں ان خداؤں میں رہنا

مار ڈالے گی غم کی ارزانی

کم کرو انتہاؤں میں رہنا

یہ غزل آخری سمجھ کے سنو

اور سیکھو بلاؤں میں رہنا

اچھا لگتا ہے، ہر گھڑی ناصر

یوں کسی کی دعاؤں میں رہنا


معین ناصر

No comments:

Post a Comment