کن ظلمتوں کے دور سے گزرا ہے آفتاب
مل کر گلے سحر سے سِسکتا ہے آفتاب
آدھا تو سازشوں کے اندھیرے نے ڈس لیا
آدھا ردائے ابر میں لپٹا ہے آفتاب
آنکھوں میں رنگ و بو کے شرارے مچل اٹھے
سینے میں کتنے کرب سے تڑپا ہے آفتاب
میں تیرہ بخت اس کے اجالوں سے دور ہوں
مجھ سے ذرا سی بات پہ روٹھا ہے آفتاب
تنویر سیٹھی
No comments:
Post a Comment