Wednesday, 15 September 2021

کن ظلمتوں کے دور سے گزرا ہے آفتاب

 کن ظلمتوں کے دور سے گزرا ہے آفتاب 

مل کر گلے سحر سے سِسکتا ہے آفتاب 

آدھا تو سازشوں کے اندھیرے نے ڈس لیا 

آدھا ردائے ابر میں لپٹا ہے آفتاب 

آنکھوں میں رنگ و بو کے شرارے مچل اٹھے 

سینے میں کتنے کرب سے تڑپا ہے آفتاب 

میں تیرہ بخت اس کے اجالوں سے دور ہوں

مجھ سے ذرا سی بات پہ روٹھا ہے آفتاب


تنویر سیٹھی

No comments:

Post a Comment