اب تِرے بعد یہاں کیسے جیا جائے گا
فیصلہ ہوش میں آتے ہی لیا جائے گا
روشنی اِتنی ضروری ہے کہ جتنی سانسیں
کشمکش میں ہوں ہوا آئی، دیا جائے گا
وقت نے بیچ دیا وقت کا پیغمبر بھی
کس نے سوچا تھا کہ نیلام کیا جائے گا
زندگی تجھ سے نبھانے کا صلہ کوئی نہیں
پہلا آنسو ہے بہر طور پیا جائے گا
فاصلے بیچ کے بے موت ہی مر جائیں گے
جب کناروں کو کناروں سے سیا جائے گا
فیصل صاحب
No comments:
Post a Comment