شاخ پر پھول کچھ ادھ جلے آ گئے
زندگی میں مِری دوغلے آ گئے
شام تو ہو گئی میکدے میں، مگر
روشنی ہو گئی، دل جلے آ گئے
وقت نے بھی دیا ساتھ کچھ یوں مِرا
زندگی میں عجب ولولے آ گئے
جب ملی اک نظر، ہر نظر رُک گئی
ہر طرف جا بجا زلزلے آ گئے
چل پڑا تھا اسے میں منانے مگر
درمیاں پھر وہی فیصلے آ گئے
معین ناصر
No comments:
Post a Comment