Monday, 20 September 2021

غم سنائیں تو ہوش کھو بیٹھیں

 غم سنائیں تو ہوش کھو بیٹھیں

ہم جو بولیں تو ہوش کھو بیٹھیں

دل کو کیا دوش دوں کہ حوریں بھی

تجھ کو دیکھیں تو ہوش کھو بیٹھیں

میری آنکھوں میں جو سمائے ہیں

دل میں اُتریں تو ہوش کھو بیٹھیں

خوش ہیں وہ مجھ سے دوستی کر کے

پیار کر لیں تو ہوش کھو بیٹھیں

عشق والوں کی بے بسی سن کر

ہم جو رو دیں تو ہوش کھو بیٹھیں

جن کا شیوہ ہے دل لگی کرنا

دل لگائیں تو ہوش کھو بیٹھیں

دوسروں پر ہے اعتراض جنھیں

خود پہ سوچیں تو ہوش کھو بیٹھیں


منزہ سید

No comments:

Post a Comment