حشر ایسا ہوا نہیں ہوتا
ایک ہوتے تو کیا نہیں ہوتا
مل کے رہتے تو زندگی رہتی
پست پھر حوصلہ نہیں ہوتا
جھوٹ رسوائیاں ہی دیتا ہے
شرم سے سر جھکا نہیں ہوتا
ہم جو ماں کی دعائیں لے لیتے
آ ج دامن میں کیا نہیں ہوتا
موت پر ماں کی کتنا روئے تھے
حد ہے، اب تذکرہ نہیں ہوتا
آج انسانیت ہے شرمندہ
خون بھی خون کا نہیں ہوتا
میں بھی دیتا دغا نہیں تجھ کو
کاش، تو بے وفا نہیں ہوتا
تو نے جاناں مجھے نہیں جانا
ورنہ ہرگز خفا نہیں ہوتا
آپ میں ہم میں ہی کمی کچھ ہے
یوں زمانہ برا نہیں ہوتا
وقت کب کس کا ساتھ دیتا ہے
بادشہ یوں گدا نہیں ہوتا
ایسے حالات آہی جاتے ہیں
ہر بشر بے وفا نہیں ہوتا
اس کو لذت ملی محبت کی
عشق میں سر جھکا نہیں ہوتا
اعلیٰ کردار اپنا ہوتا جو
انہیں قدموں میں کیا نہیں ہوتا
قرب تقوے سے پاؤ گے ناصر
پاس سب کے خدا نہیں ہوتا
معین ناصر
No comments:
Post a Comment