Wednesday, 5 April 2023

حشر ایسا ہوا نہیں ہوتا

 حشر ایسا ہوا نہیں ہوتا

ایک ہوتے تو کیا نہیں ہوتا

مل کے رہتے تو زندگی رہتی

پست پھر حوصلہ نہیں ہوتا

جھوٹ رسوائیاں ہی دیتا ہے

شرم سے سر جھکا نہیں ہوتا

ہم جو ماں کی دعائیں لے لیتے

آ ج دامن میں کیا نہیں ہوتا

موت پر ماں کی کتنا روئے تھے

حد ہے، اب تذکرہ نہیں ہوتا

آج انسانیت ہے شرمندہ

خون بھی خون کا نہیں ہوتا

میں بھی دیتا دغا نہیں تجھ کو

کاش، تو بے وفا نہیں ہوتا

تو نے جاناں مجھے نہیں جانا

ورنہ ہرگز خفا نہیں ہوتا

آپ میں ہم میں ہی کمی کچھ ہے

یوں زمانہ برا نہیں ہوتا

وقت کب کس کا ساتھ دیتا ہے

بادشہ یوں گدا نہیں ہوتا

ایسے حالات آہی جاتے ہیں

ہر بشر بے وفا نہیں ہوتا

اس کو لذت ملی محبت کی

عشق میں سر جھکا نہیں ہوتا

اعلیٰ کردار اپنا ہوتا جو

انہیں قدموں میں کیا نہیں ہوتا

قرب تقوے سے پاؤ گے ناصر

پاس سب کے خدا نہیں ہوتا


معین ناصر 

No comments:

Post a Comment